اے دوست اظہار کرنا ضروری تو نہیں ھوتا
Poet: aik banda By: aik banda, londonاے دوست اظہار کرنا ضروری تو نہیں ھوتا
محبت کا اقرار کرنا ضروری تو نہیں ھوتا
اگر یہ پیار نہیں تو کیا ھے
اگر یہ اقرار نہیںتو کیا ھے
اسکا مجھے کھوجنا
اکثر مجھے ہی سوچنا
میرے لیے بیقرار رھنا
میرے ہی انتظار میں رھنا
میرے بن اداس رھنا
مجھے دیکھ کر مسکرانا
میرے دکھ میں آنسو بہانا
وہ وقت رخصت رصت پھوٹ کر رونا
یہ سب کیا ھے
یہ ھی پیار ھے
یہ ھی مشرقیت ھے
یہ ہی بڑوں کا ادب ہے
یہ ہی والدین سے وفا ھے
یہ ہی بھائیوں کی عزت ھے
یہ ہی تو قربانی ھے
اے دوست اظہار کرنا ضروری تو نہیں ھوتا
محبت کا اقرار کرنا ضروری تو نہیں ھوتا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






