چوٹ جب دل پہ لگے تو آنسو آہی جاتے ہیں
Poet: aik banda By: aik banda, londonچوٹ جب دل پہ لگے تو آنسو آہی جاتے ہیں
جب بچھڑا ھوا یاد آئے تو آنسو آہی جاتے ہیں
جب کسی ٹوٹے دل کا ذکر کرتے ھو تو آنسو آہی جاتے ہیں
جب کوئی دل میں روتا ھے تو آنسو آہی جاتے ہیں
پرانی یادوں کا ذکر آئے تو آنسو آہی جاتے ہیں
جس پل اکی خوشبو ستائے تو آنسو آہی جاتے ہیں
اس کو پڑھتا ھوں تو آنسو آہی جاتے ہیں
جب ضبط ٹو ٹے تو آنسو آہی جاتے ہیں
اس کو زیادہ سوچوں تو آنسو آہی جاتے ہیں
چوٹ جب دل پہ لگے تو آنسو آہی جاتے ہیں
جب بچھڑا ھوا یاد آئے تو آنسو آہی جاتے ہیں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






