اے عاشقوں ! محبت ، ہاں محبت
Poet: NEHAL INAYAT GILL By: NEHAL, Gujranwalaاے عاشقوں ! محبت ، ہاں محبت
حوس کو اِسی نام سے پکارتے ہو نا
جسموں کی چاہت ، رنگینیوں کے مزے
محبت کی بنیاد پہ ہی تعمیر کرتے ہو نا
محبت میں چھپا کر خواہشیں دل کی
معشوموں ! دل میں چلے آتے ہو نا
محبت کے بستر پہ شب گزار کے
سحر کی مسکراہٹوں کے سنگ چلے جاتے ہو نا
تمہارے آنسو ، تمہارے وعدے سب جھوٹ
سچ بتاؤ آج ، میں جان گیا ہوں نا
نہال محبت بدنام ہو چکی ہے بہت
اب کنارا ہی بہتر ہے عملِ محبت سے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






