دل میں آئے مرے ، دلربا ہو گئے
Poet: Fazlul Hasan (Hasan Shamsi) By: F.H.SIDDIQUI, Lucknow ( India )دل میں آئے مرے ، دلربا ہو گئے
درد پہلے دیا ، پھر دوا ہو گئے
جیسے جیسے چڑھا ان پہ رنگ شباب
بھولے بھالے تھے ، قاتل ادا ہو گئے
پہلے تشنہ لبی وہ بڑھا تے رہے
جب پلائ مکمل نشہ ہو گئے
ان میں میں ، مجھ میں وہ صاف دکھنے لگے
ایک دوجے کا ہم آ ئینہ ہو گئے
پہلے عاشق ہوئے ، آج مجنوں بنے
پیار میں دیکھو ہم ، کیا سے کیا ہو گئے
پوچھتے پوچھتے ہم پتہ آپ کا
خود نہ جانے کہاں لا پتہ ہو گئے
اچھا لگتا ہے میرا منانا انھیں
بس اسی واسطے پھر خفا ہو گئے
ایک آندھی نے ایسے اجاڑا چمن
سب مز ے زندگی کے ہوا ہو گئے
میٹھے میٹھے کچھ احساس دے کر ‘ حسن ‘
بیتے لمحوں کا وہ واقعہ ہو گئے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






