اے لڑکوں کیا کبھی سوچا ہے تم نے ؟
Poet: AF(Lucky) By: AF(Lucky), Saudi Arabiaاے لڑکوں کیا کبھی سوچا ہے تم نے ؟
جانے ، انجانے - یا پھر شرارت میں
تم نے کتنی نادان آنکھوں میں
خواب سجائے ہوں گے اور پھر
کتنے خوابوں کے محل
پل بھر میں گرائے ہوں گے
کسی کی آنکھوں سے
کتنے ہی دریا بہائے ہوں گے
ابھی آیا کہہ کر ---- تم نے
کسی سے انتظار کے
کتنے دیپ جلوائے ہوں گے
رشتوں کے اصولوں میں
دبی اک لڑکی سے
وفا کا وعدہ لے کر
کتنے رشتے زندہ دفنائے ہوں گے
اور پھر ُاسی اک لڑکی کو
تنہا چھوڑ کر زمانے سے
کتنے الزام ٹہرائے ہوں گے
تمہاری بے ُرخی سے
اک معصوم کی محبت پے
کتنے زوال آئے ہوں گے
کیا کبھی سوچا ہے تم نے ؟
اور محبت کے دشمن زمانے نے
اپنے تلخ زبانوں سے
کسی کے دل پر
کتنے تیر چلائے ہوں گے
گلابی چہروں پے تم نے
کتنے زرد پتے بٹھائے ہوں گے
کیا کبھی سوچا ہے تم نے ؟
جینے کی عمر میں
کسی کو موت کے راہ دیکھائے ہوں گے
( یہ شاعری صرف ُان لڑکوں کے لیے ہیں ۔ جو محبت کو ٹائم پاس سمجھتے ہیں ۔ اور کسی کی زندگی برباد کر دتیے ہے )
ہر ایک صبح یہاں بن کے سوگ ساتھ رہے گی
چنار شاخ پہ بیٹھا پرندہ بھی سہما ہوا ہے
کہ گولیوں کی صدا اب تو دن کی بات رہے گی
جنازے اٹھتے ہیں، مائیں ہیں پتھرائی ہوئی سی
یہ کس کے نام لکھوں کون سی حیات رہے گی؟
جھیلِ ڈل کا پانی بھی اب سوال کرتا ہے
کہ کتنے خواب ڈبوؤ گے کب یہ گھات رہے گی؟
وہ اسکول بند پڑے ہیں، کتابیں جل رہی ہیں
بتاؤ اے مرے رب نسل کب نجات پائے گی؟
کبھی تو تھا یہ چمن امن کا گہوارہ لیکن
اب اس زمیں پہ فقط آہ کا ثبات رہے گا
لہو سے لکھتے ہیں ہم داستاں کشمیر کی
یہ داستاں نہ سہیںپر یہ کائنات رہے گی
مسعودؔ دردِ وطن کو قلم میں ڈھالتا رہے گا
جب تک لہو میں حرارت ہے یہ صدا ساتھ رہے گی
دل کو مبتلائے غم کر کے مسکرا رہا ہے صنم
اکیلے ہی گزارا کر لیا میں نے
سکوں ملتا نہیں مجھ کو اجالے میں
اندھیروں کو ہی پیارا کر لیا میں نے
اگرچہ زیست مشکل تھی یہ تیرے بن
مگر سب کچھ گوارا کر لیا میں نے
یہ دنیا نفع کی عادی تو ہے لیکن
محبت میں خسارا کر لیا میں نے
جھکا کر سر گریبانِ جنوں میں پھر
عجب دلکش نظارا کر لیا میں نے
مقدر کی اندھیری رات میں گویا
خود اپنے کو ستارا کر لیا میں نے






