اے لڑکوں کیا کبھی سوچا ہے تم نے ؟
Poet: AF(Lucky) By: AF(Lucky), Saudi Arabiaاے لڑکوں کیا کبھی سوچا ہے تم نے ؟
جانے ، انجانے - یا پھر شرارت میں
تم نے کتنی نادان آنکھوں میں
خواب سجائے ہوں گے اور پھر
کتنے خوابوں کے محل
پل بھر میں گرائے ہوں گے
کسی کی آنکھوں سے
کتنے ہی دریا بہائے ہوں گے
ابھی آیا کہہ کر ---- تم نے
کسی سے انتظار کے
کتنے دیپ جلوائے ہوں گے
رشتوں کے اصولوں میں
دبی اک لڑکی سے
وفا کا وعدہ لے کر
کتنے رشتے زندہ دفنائے ہوں گے
اور پھر ُاسی اک لڑکی کو
تنہا چھوڑ کر زمانے سے
کتنے الزام ٹہرائے ہوں گے
تمہاری بے ُرخی سے
اک معصوم کی محبت پے
کتنے زوال آئے ہوں گے
کیا کبھی سوچا ہے تم نے ؟
اور محبت کے دشمن زمانے نے
اپنے تلخ زبانوں سے
کسی کے دل پر
کتنے تیر چلائے ہوں گے
گلابی چہروں پے تم نے
کتنے زرد پتے بٹھائے ہوں گے
کیا کبھی سوچا ہے تم نے ؟
جینے کی عمر میں
کسی کو موت کے راہ دیکھائے ہوں گے
( یہ شاعری صرف ُان لڑکوں کے لیے ہیں ۔ جو محبت کو ٹائم پاس سمجھتے ہیں ۔ اور کسی کی زندگی برباد کر دتیے ہے )
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔






