صدیاں گذر گیںٔ ہمیں خود سے ملے ہوۓ

Poet: Azra Naz By: Azra Naz, Reading UK

صدیاں گذر گیںٔ ہمیں خود سے ملے ہوۓ
اِس قلبِ تار تار کا دامن سِلے ہوۓ

اُن سے لِپٹ کے ہم کو نہ رونا ہوا نصیب
سینے میں دفن ہجر کے شکوے گلے ہوۓ

شعر و سخن کی محفلیں ، شامیں وہ سُرمییٔ
اب تو خیال و خواب سبھی سلسلے ہوۓ

چلنے کو ساتھ ہم ہی نہ تیار ہو سکے
ہر بار گو روانہ کییٔ قافلے ہوۓ

جو بن پہ آج حسن ہے شامِ بہار کا
کلیاں چٹک رہی ہیں تو گلُ ہیں کھلے ہوۓ

مامور ہیں جو میری حفاظت پہ رات دِن
ہیں اندرونِ خانہ عدوُ سے ملے ہوۓ

بدلے میں چاہتوں کے ملیں نفرتیں ہمیں
کچھ اِس طرح نصیب وفا کے صلے ہوۓ

Rate it:
Views: 1048
19 Nov, 2012
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL