اے مرے شہرِ محبت تیری شاموں کی قسم

Poet: میم الف ارشیؔ By: Muhammad Arshad Qureshi, Karachi

اے مرے شہرِ محبت تیری شاموں کی قسم
جن پر ڈالے تھے کبھی جھولے ان آموں کی قسم

میں تجھے بھول نہ پاؤں گا میرے ٹنڈو جام
ماں کی آغوش اور باباکے شانوں کی قسم

گھر سے آتی تھی جو خوشبو کبھی روٹی کی
ماں کے ہاتھوں سے بنے ان کھانوں کی قسم ‏

ٹوٹے دانتوں کو لے جاتی تھیں پریاں سب کے
بچوں کے ساتھ گھڑے سارے فسانوں کی قسم

جامن کے پتوں پہ لگا کر کتھا چونا
ہم نے جو کھائے تھے ان پانوں کی قسم

سامنے گھر کے سڑک تھی جو بڑی خونی تھی
اس پر جو جاں سے گئے ان کی جانوں کی قسم

گھر کے آنگن میں کپ اور پیالے رکھ کر
اک چمچے سے بجاتے تھے جو پیانوں کی قسم

خالی ڈبیوں سے بنے تھے جو ترازو اپنے
گھر کے اندر جو تھیں اپنی دکانوں کی قسم

‏ گھر کے طاق میں جلتا تھا دِیا شب بھر جو
اڑتے تھے گرد ان کے جو اُن پروانوں کی قسم ‏

اے مرے شہرِ محبت تیری شاموں کی قسم
جن پر ڈالے تھے کبھی جھولے ان آموں کی قسم
 

Rate it:
Views: 956
29 Jun, 2021
More Love / Romantic Poetry
" کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں " کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔
MAZHAR IQBAL GONDAL