اے میرے متاعِ حیات سُن

Poet: Rukhsana Kausar By: Rukhsana Kausar, Jalal Pur Jattan, Gujrat

اے میرے متاعِ حیات سُن
میرے عزیز از جاں
تیرے واسطے میرے تمام پل
تیرے واسطے میری ہر صُبح
اے میرے متاعِ حیات سُن
یہ تو آج بھی نہ جان سکا
میں تیری چاہت تیری یاد کی
ہر مہک میں ہوئی فشاں
میں نے جیا تو تیرے لیے جیا
میں نے ہر لمحہ اپنے مالک سے بس تجھ کو ہی مانگ لیا
اے میرے متاعِ حیات سُن
حشر میں بھی مجھ کو ملے گا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔تو
میں اور کسی جنت کی طالب نہیں
میں تیری ہی چاہت میں جیتی رہوں
میرے جینے کا اور کوئی سبب نہ ہو
تو جان میری۔۔ ایمان میرے ، تو اگر ہو جائے خفا
تو ہو جائے ساری دُنیا بے رنگ
اے میرے متاعِ حیات سُن
میں روکوں تو تجھ کو ہی پاؤں
میں چلوں توہی ہو میرے سنگ
اے میرے متاعِ حیات سُن
میں تیرے لیے ہی جیتی ہوں اب
تیرا ہر درد ہنس کے پیتی ہوں اب
تیری چاہتوں کی کھوج میں
تجھے مکمل پانے کی سوچ میں
میں ابھی تلک زندہ ہوں
تو میرے پندارِ شباب کا سرمایہِ حیات ہے
توفقط تو ہی میری سانسو ں کا متاعِ حیات ہے
اے میرے متاعِ حیات سُن
رخسانہ کوثر

Rate it:
Views: 823
30 Nov, 2013
More Love / Romantic Poetry
" کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں " کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔
MAZHAR IQBAL GONDAL