اے میرے وطن میری امیدوں کے سہارے
Poet: Taj Rasul Tahir By: TAJ RASUL TAHIR, Islamabadاے میرے وطن میری امیدوں کے سہارے
تو شاد رہے ، شاد سدا ، دل ہے پکارے
ہر رنگ تیرے حسن کا نکھرے گا ہمیشہ
ہر روز تیرا عید سا گزرے گا ہمیشہ
تو رونق امروز رہے پیش ہمارے
اے میرے وطن میری امیدوں کے سہارے
تجھ جیسا نہیں خطہ کہیں اور جہاں میں
ہر ذرہ تاباں ہے ترا دشت و مکاں میں
دامن ہے تیرا یا ہیں فلک ،چاند ستارے
اے میرے وطن میری امیدوں کے سہارے
تو شاد ، سدا شاد رہے
تقدیر تری خوب سنور جائے گی اک روز
یہ کالی گھٹا خود ہی بکھر جائے گی اک روز
دیکھیں گے وہ پھر سے ترے پر کیف نظارے
اے میرے وطن میری امیدوں کے سہارے
تو شاد ، سدا شاد رہے
تو پیروں فقیروں کی دعاؤں کا صلہ ہے
تو داتا و غازی و قلندر کی عطا ہے
سب تیرے مکیں بھی ہیں ہمیں جان سے پیارے
اے میرے وطن میری امیدوں کے سہارے
تو شاد ، سدا شاد رہے
اب تیرے عدو خود ہی لرزتے ہیں جہاں میں
کیا دھوم مچی ہے تیرے غوری کی جہاں میں
شاہین و حطف ہیں تیری عظمت کے اشارے
اے میرے وطن میری امیدوں کے سہارے
تو شاد ، سدا شاد رہے
سطوت کا تیری بیڑہ اٹھایا ہے سبھی نے
دانشور و مشاق و ہنر مند و جری نے
قدرت نے تجھے کیسے جواں بخشے ہیں پیارے
اے میرے وطن میری امیدوں کے سہارے
تو شاد ، سدا شاد رہے
جہلم ہو یا چاغی تیر ا ہر ذرہ نگینہ
خیبر سے گوادر میرے ارماں کا سفینہ
بے خوف رہنما ہیں سبھی شیر ہمارے
اے میرے وطن میری امیدوں کے سہارے
تو شاد ، سدا شاد رہے
ہر فردِ سپاہ غیرتِ ملی کی نشانی
جس نے تجھے دلوایا نیا جوش و جوانی
اللہ اسے ہر گام رکھے ساتھ ہمارے
اے میرے وطن میری امیدوں کے سہارے
تو شاد ، سدا شاد رہے
تو دیس ہمارا ہے مگر پیارا ہے سب کو
اس امہ مسلم میں فقط تارا یے سب کو
اغیار بھی اب آتے ہیں نزدیک ہمارے
اے میرے وطن میری امیدوں کے سہارے
تو شاد ، سدا شاد رہے
طاہر تیری آغوش میں آزاد ہے لیکن
کشمیر میں باسی تیرا ناشاد ہے لیکن
اک روز تو سب تیرے ہی ہو جائیں گے پیارے
اے میرے وطن میری امیدوں کے سہارے
تو شاد ، سدا شاد رہے دل ہے پکارے
ارے چین ایسا کہ ناراض کرے رب کو کیسی راحت
نگا ہ زن تیری راحت، بدن تیری محبت ہے
عجب پالے محبت تو عشق بس نام کی سنگت
عجب عورت تیری بول چاری دیکھی میں نے جگ بھر میں
وصال مرد اچھا نہ ، کر ے کیوں گفتگو الفت
وصال مرد زن گر ہے محبت تو سنو یہ پھر
ملے نہ گر بدن تو رکھے کیوں الفت کی جا نفرت
ہے قال تم فراق تم سے جائے جاں میری ہائے
پریشاں گر ہو محبوب دور نہ کرتے اس کی تم زحمت
محبت خاکؔ طیبؔ یہ پیش خدمت جاں ہو چاہ کے
پیش محبو ب سب کچھ تم کرو گر نہ، نہیں الفت
اُن کی راہوں میں دُعاؤں کی نِشانی رَکھ دِی ۔
جِن کے بَچوں کو دِیا نام، سَہارا، مَنزِل،
اَپنی قِسمَت کی بھی ہَم نے تو گِرانی رَکھ دِی ۔
ہَم دِیّارِ غَیر میں تَنہا ہی لَڑتے رَہ گئے،
اور اُنہوں نے فَقط مَطلَب کی کَہانی رَکھ دِی ۔
گھر بَنایا تھا جِسے سَایۂ اِخلاص سَمجھ،
وَقت آیا تو اُسی گھر نے وِیرانی رَکھ دِی ۔
دَرد اِتنا ہے کہ اَب شِکوَہ بھی مُشکِل لَگتا،
زِندگی نے لَبِ اِظہار پہ پانی رَکھ دِی ۔
مَظہرؔ اِحسان کا بَدلہ نہ سَہی، یاد ہی رَکھ،
کُچھ تو رِشتوں نے وَفادارِی کی نِشانی رَکھ دِی ۔
جِنہیں اَپنا سَمجھا، وُہی یہ کَہہ کے ہَنس دِیے،
حاجی صَاب لُوسدِیاں رَہنا اِیں
بَس اِتنی مِہربانی رَکھ دِی
جو قوم کی خاطر بولا تھا، زِندان میں بیٹھا ہے۔
جس شَخص نے خواب دِکھائے تھے اِک بہتر پاکستان کے،
وہ شَخصِ وَفا آج بھی بے سامان میں بیٹھا ہے۔
جس نے ہر ظُلم کے آگے حَق بات سُنائی لوگوں کو،
وہ اَپنی ہی قوم کے بیچ حَیران میں بیٹھا ہے۔
اِک آنکھ بھی اُس کی جاتی رَہی اِس راہِ سیاسَت میں،
اور شہرِ تمَاشہ خاموشی کی تان میں بیٹھا ہے۔
لوگوں نے فَقط نعروں تک مَحدُود رَکھی چاہت کو،
اِک مَردِ مُجاہد اَب تک زِندان میں بیٹھا ہے۔
گر ایک دَفعہ بھی قوم اُٹھے، دِیواریں ہِل سَکتی ہیں،
وَرنہ ہر خواب یَہاں خوف کے طُوفان میں بیٹھا ہے۔
کتنی ہی عِیدیں گُزر گئیں اُس شَخص پہ تَنہائی میں،
اور ہر بے حِس چہرہ اَپنے ہی اَرمان میں بیٹھا ہے۔
مظہرؔ یہ قِیادت بکنے والی شے تو نہیں ہوتی،
اِک سَچّا لِیڈر آج بھی زِندان میں بیٹھا ہے۔
کہ یاروں کو بھُلایا ہو نِشاں بھی نہیں مِلتا
میں اَپنوں کے لیے ہر درد چُپ رَہ کر ہی سَہتا ہوں
لَبوں پَر آہ کا کوئی اِمکاں بھی نہیں مِلتا
مُحَبَّت کے بہت دَعوے کِیے چہروں نے مِل کر اَب
مگر سچ ہے کہ ان جیسا انساں بھی نہیں ملتا
سَہارا جو بُرے وَقتوں میں لوگوں کا بَنے یارو
زَمانے میں کِسی کو وہ خانداں بھی نہیں ملِتا
میں اَپنے دوست کی خاطِر زَمانے بھَر سے لَڑ جاؤں
مَطلَب پَرَستوں میں یہ اِیماں بھی نہیں ملِتا
جو دِل میں ہے وُہی لَب پَر، نہیں ہے پَردہ کوئی بھی
مِرے کِردار میں جھُوٹوں کا دھِیاں بھی نہیں مِلتا
مظہرؔ یاروں کی چاہَت میں ہمیشہ سَر جھُکاتا ہے
وفاداری کے رَستے میں نُقصاں بھی نہیں مِلتا






