بہت شوق تھا مجھے۔۔۔
Poet: UA By: UA, Lahoreبہت شوق تھا مجھے تنہا شخص کی تنہائی دیکھنے کا
جنوں میں کیونکر ہوتی ہے بھلا رسوائی دیکھنے کا
جنوں میں مبتلا ہو کر بہت رسوائی دیکھی ہے
بہت خود کو تنہا دیکھا بہت تنہائی دیکھی ہے
میری آنکھوں میں شوخ مستیاں لہراتی رہتی تھیں
کہ جب جب نیل گگن میں بدلیاں لہراتی رہتی تھیں
مگر نادان آنکھیں جانتی نہ تھیں کہ بدلیاں
فلک پہ جب لہراتی ہیں برس کے ہی دم پاتی ہیں
شفق کی سَرخیاں آنکھوں میں کب کیسے اَترتی ہیں
مچلتی بدلیاں آنکھوں سے کب کیسے برستی ہیں
یہ میں نے پہلے کب سیکھا یہ میں نے پہلے کب جانا
تَجھے پانے سے پہلے بھی تجھے کھونے سے ڈرتی تھی
میں خود سے چَھپ کے چَپکے چَپکے عشق کرتی تھی
تیری باتوں سے اپنے دل کا آشیاں مہکایا تھا
تیری یادوں کا اپنی آنکھوں میں کاجل لگایا تھا
تمہارے عشق میں بیدار ہو کر یاد میں سو کر
اور اب تَم سے جَدا ہو کر تمہاری یاد میں رو کر
بہت رسوائی دیکھی ہے بہت تنہائی دیکھی ہے
جنوں میں مبتلا ہو کر ہی جگ ہنسائی دیکھی ہے
بہت شوق تھا مجھے تنہا شخص کی تنہائی دیکھنے کا
جنوں میں کیونکر ہوتی ہے بھلا رسوائی دیکھنے کا
جنوں میں مبتلا ہو کر بہت رسوائی دیکھی ہے
بہت خود کو تنہا دیکھا بہت تنہائی دیکھی ہے
ماریہ ریاض کی فرمائش پر
جو قوم کی خاطر بولا تھا، زِندان میں بیٹھا ہے۔
جس شَخص نے خواب دِکھائے تھے اِک بہتر پاکستان کے،
وہ شَخصِ وَفا آج بھی بے سامان میں بیٹھا ہے۔
جس نے ہر ظُلم کے آگے حَق بات سُنائی لوگوں کو،
وہ اَپنی ہی قوم کے بیچ حَیران میں بیٹھا ہے۔
اِک آنکھ بھی اُس کی جاتی رَہی اِس راہِ سیاسَت میں،
اور شہرِ تمَاشہ خاموشی کی تان میں بیٹھا ہے۔
لوگوں نے فَقط نعروں تک مَحدُود رَکھی چاہت کو،
اِک مَردِ مُجاہد اَب تک زِندان میں بیٹھا ہے۔
گر ایک دَفعہ بھی قوم اُٹھے، دِیواریں ہِل سَکتی ہیں،
وَرنہ ہر خواب یَہاں خوف کے طُوفان میں بیٹھا ہے۔
کتنی ہی عِیدیں گُزر گئیں اُس شَخص پہ تَنہائی میں،
اور ہر بے حِس چہرہ اَپنے ہی اَرمان میں بیٹھا ہے۔
مظہرؔ یہ قِیادت بکنے والی شے تو نہیں ہوتی،
اِک سَچّا لِیڈر آج بھی زِندان میں بیٹھا ہے۔
کہ یاروں کو بھُلایا ہو نِشاں بھی نہیں مِلتا
میں اَپنوں کے لیے ہر درد چُپ رَہ کر ہی سَہتا ہوں
لَبوں پَر آہ کا کوئی اِمکاں بھی نہیں مِلتا
مُحَبَّت کے بہت دَعوے کِیے چہروں نے مِل کر اَب
مگر سچ ہے کہ ان جیسا انساں بھی نہیں ملتا
سَہارا جو بُرے وَقتوں میں لوگوں کا بَنے یارو
زَمانے میں کِسی کو وہ خانداں بھی نہیں ملِتا
میں اَپنے دوست کی خاطِر زَمانے بھَر سے لَڑ جاؤں
مَطلَب پَرَستوں میں یہ اِیماں بھی نہیں ملِتا
جو دِل میں ہے وُہی لَب پَر، نہیں ہے پَردہ کوئی بھی
مِرے کِردار میں جھُوٹوں کا دھِیاں بھی نہیں مِلتا
مظہرؔ یاروں کی چاہَت میں ہمیشہ سَر جھُکاتا ہے
وفاداری کے رَستے میں نُقصاں بھی نہیں مِلتا
کسی سے خود کو مگر کم نہیں بنائیں گے
ہمارے عہد میں ہر سو محبتیں ہوں گی
خزاں کا ہم کوئی موسم نہیں بنائیں گے
ہم ایک نقشہ بنائیں گے سارے ملکوں کا
کسی بھی ملک کا پرچم نہیں بنائیں گے
ہم اپنے علم سے مرہم بنائیں گے لیکن
ہم اپنے علم سے ایٹم نہیں بنائیں گے
ہماری سانس کو عادت نہ ہونے لگ جائے
کبھی بھی ہم کوئی ہمدم نہیں بنائیں گے
کبھی نہ راستہ روکیں گے جانے والوں کا
کہیں پہ چشمۂِ زم زم نہیں بنائیں گے
کسی سے دور بھی رہ کر خوشی سے جی لیں گے
کسی کی زیست جہنم نہیں بنائیں گے
جو دل کی صداؤں کی گہرائی ہے، وہی ہے۔
جو ہر گام پر ہے چراغِ نظر
مسافت میں رہتی جو بینائی ہے، وہی ہے۔
نہ پوچھو کہ کیسے وہ دل میں بسا ہے
کہ جذبوں کی ہر ایک رسوائی ہے، وہی ہے۔
کبھی ایک آہٹ، کبھی ایک خوشبو
یہ دنیا جو دل میں بس آئی ہے، وہی ہے۔
میں جس کو خیالوں میں اکثر سنواروں
جو خوابوں میں چپکے سے آئی ہے، وہی ہے۔
میں جس کو دعاؤں میں اکثر پکاروں
مرے لب پہ ہر دم جو آئی ہے، وہی ہے۔
نہ چاہا کسی اور کو اس طرح سے
محبت کی میری جو سچائی ہے، وہی ہے۔
کہا جس کو میں نے کبھی زندگی
وہی میری سب کچھ، خدائی ہے، وہی ہے۔
وہی روشنی ہے، وہی خواب سا ہے
مری ہر نگاہوں کی بینائی ہے، وہی ہے۔
سنو لوگو! جس نے مجھے جان بخشا
مرے دل میں مظہر جو چھائی ہے، وہی ہے۔






