اے چاند کس کو ڈھوننے نکلا ہے آ ج رات

Poet: Anwar Kazimi By: Anwar Kazimi, mississauga, Canada

تنہائیو ں کے زہر سے جو شخص مر گیا
کہتے ہیں اسکے سو گ میں سارا شہر گیا

اے چاند کس کو ڈھوننے نکلا ہے آ ج رات
و ہ دل شکستہ شام سے ہی اپنے گھر گیا

ما نندِ طفل دل سے میر ے کھیلتا ر ہا
شاید پھر اِس کھلونے سے دل اُسکا بھر گیا

رہتا تھا تیر ے شہر میں جو شخص تشنہ لب
و ہ بادلو ں کے ساتھ نہ جانے کدھر گیا

ٲساحل پہ پھر سے جھگیاّں آ باد ہو گئیں
د ر یا محبتو ں کا کبھی کا اُ تر گیا

اُسکے لیے سہل تھا جدائی  کا حادثہ
میرے لیے تو وقت و ہیں پر ٹھہر گیا

رہتا ہے اب بھی آپ کے شہرِ خیال میں
وہ آدمی جو آپ کو دیوانہ کر گیا

یاروں نے سکھ کا سانس لیا موت پہ مرِی
بو لے خد ا کا شکر ہے آ شفتہ سرَ گیا

مجھکو تو یاد ہے وہ ملاقات دوستو
جس میں وہ میرے گھر کا پتہ پوچھ کر گیا

Rate it:
Views: 760
13 Dec, 2012
More Love / Romantic Poetry
" کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں " کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔
MAZHAR IQBAL GONDAL