اے گذرے سال تو گواہ رہنا
Poet: Zulfiqar Ali Bukhari By: Zulfiqar Ali Bukhari, Rawalpindiاے گذرے سال تو گواہ رہنا
میں ہر پل مرتا جیتا رہا مگر
اُس پر آنچ نہیں آنے دی
مگر جب اسکی خوشی کی خاطر
اپنا سب کچھ اُس پر وار دیا
تو اُس نے ساتھ چھوڑ دیا
اے گذرے سال تو گواہ رہنا
تجھ میں گزرے ہر دن کو
آخری سانس تک یاد رکھنا ہے
ہر گھڑی اُسی کو یاد کرنا ہے
اُس کا منتظر رہنا ہے
اے گذرے سال تو گواہ رہنا
میری محبت اب بھی باقی ہے
میری آس آج بھی قائم ہے
بس اُس کی راہ تکنا ہے
اے گذرے سال تو گواہ رہنا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






