کیا ہؤا جو میں ہوں درون ِ قفس
Poet: Rana Tabassum Pasha(Daur) By: Rana Tabassum Pasha(Daur), Dallas, USAکیا ہؤا جو میں ہوں ۰۰۰۰۰ درون ِ قفس
اس کا ایک اِک تار ہے میرا ہم نفس
تنہائی میں بھی تیرے قرب کا احساس
میری انگلیوں پہ چھوڑ گیا ہے اپنا لمس
آتش ِ ہجر میں جل جل کے جی اٹھتا ہے
تیری طلب میں دل ہو گیا مانند ِ قُقنس
میری حالت ِ دل ہی کی ایک جھلک ہے
وہ داغ ِ قمر ہو یا ہو کوئی شرارۂ شمس
تو بچھڑ گیا ہے تو خار بن کے چُبھتا ہے
ہوتے ہی گلاب بھی میرے لبوں سے مس
دل کو لگا رہتا ہے ہر دم کوچ کا دھڑکا
دھڑکنوں میں گونج رہی ہے صدائے جرس
یاد کسی اپنے کی دل رعنا کا تڑپائے جب بھی
دید کے پیاسے نیناں جاتے ہیں برس برس
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






