اے ہواؤ میری تنہائی سے الجھا نہ کرو

Poet: M R Chishti By: M R Chishti, Muzaffarpur India

اے ہواؤ میری تنہائی سے الجھا نہ کرو
تم کسی اور کو یاد آنے سے روکا نہ کرو

کوئی گمنام سا جملہ ہے نظر کا طالب
بن پڑھے آج ہر اک صفحہ کو پلٹا نہ کرو

کون جاگا ہے میرے سینے میں کروٹ لے کر
دھڑکنوں چپ رہو تنہائی سے الجھا نہ کرو

مجھ کو خود بھی نہیں معلوم کدھر جاؤں گا
میں ہوں آوارہ ہوا مجھ پہ بھروسہ نہ کرو

مجھ کو منظور ہیں دنیا کے مصائب سارے
میری آنکھوں سے میرے خواب کو نوچا نہ کرو

عشق گمنام سی راہوں کا مسافر ٹھہرا
تم سر راہ مجھے ہنس کے پکارا نہ کرو

مجھ کو بچپن میں کہا تھا کبھی اک بوڑھے نے
خاک ہو خاک سے زیادہ کی تمنا نہ کرو

منزلیں خود میرے قدموں سے لپٹ جاتی ہیں
میں قلندر ہوں میرا راستہ روکا نہ کرو

وقت نے مجھ کو یہ سکھلا ہی دیا ہے چشتی
"تم سمندر کی رفاقت پہ بھروسہ نہ کرو"

Rate it:
Views: 606
28 Jan, 2016
More Love / Romantic Poetry
" کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں " کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔
MAZHAR IQBAL GONDAL