ہستی کا مِری حشر بپا دیکھتے ہوئے
Poet: رشید حسرتؔ By: رشید, Quettaہستی کا مِری حشر بپا دیکھتے ہوئے
وہ رو ہی دیا مُجھ کو بُجھا دیکھتے ہوئے
ہم وہ کہ کبھی وقت سے بھی ہار نہ مانیں
برباد کِیا آپ نے کیا دیکھتے ہوئے
انجان علاقہ تھا، کِیا میں نے تعیُّن
قِبلے کا، فقط قِبلہ نُما دیکھتے ہوئے
مرمر تھا ماں کی قبر پہ نہ باپ کی کبھی
چھلکی ہے آنکھ کتبہ لگا دیکھتے ہوئے
سو جانا چاہیئے کہ نہِیں شب کا جاگنا
اچھّا، وہ شب کا ایک بجا دیکھتے ہوئے
کل تک جو مِرے ایک اِشارے پہ فدا تھے
مُنہ پھیر گئے وقت بُرا دیکھتے ہوئے
بوسِیدہ ہو کے چاک ہوئی ہے جگہ جگہ
مزدُور کے جو تن پہ قبا، دیکھتے ہوئے
بھائی کی یاد آئی ہے بے ساختگی کے ساتھ
بیریں کا پیڑ گھر میں لگا دیکھتے ہوئے
لوٹ آ تو مِرے دوست ترے بعد تِری بزم
نمناک ہوئی آنکھ سجا دیکھتے ہوئے
اللہ کا تُو شُکر ادا کر کہ نہیں ہے
تذلِیل نہ کر، اُس کو گدا دیکھتے ہوئے
بیٹی جو کہہ دیا ہے تُجھے، دل سے کہہ دیا
حسرتؔ ہے سر پہ ہاتھ حیا دیکھتے ہوئے
ہر ایک صبح یہاں بن کے سوگ ساتھ رہے گی
چنار شاخ پہ بیٹھا پرندہ بھی سہما ہوا ہے
کہ گولیوں کی صدا اب تو دن کی بات رہے گی
جنازے اٹھتے ہیں، مائیں ہیں پتھرائی ہوئی سی
یہ کس کے نام لکھوں کون سی حیات رہے گی؟
جھیلِ ڈل کا پانی بھی اب سوال کرتا ہے
کہ کتنے خواب ڈبوؤ گے کب یہ گھات رہے گی؟
وہ اسکول بند پڑے ہیں، کتابیں جل رہی ہیں
بتاؤ اے مرے رب نسل کب نجات پائے گی؟
کبھی تو تھا یہ چمن امن کا گہوارہ لیکن
اب اس زمیں پہ فقط آہ کا ثبات رہے گا
لہو سے لکھتے ہیں ہم داستاں کشمیر کی
یہ داستاں نہ سہیںپر یہ کائنات رہے گی
مسعودؔ دردِ وطن کو قلم میں ڈھالتا رہے گا
جب تک لہو میں حرارت ہے یہ صدا ساتھ رہے گی
دل کو مبتلائے غم کر کے مسکرا رہا ہے صنم
اکیلے ہی گزارا کر لیا میں نے
سکوں ملتا نہیں مجھ کو اجالے میں
اندھیروں کو ہی پیارا کر لیا میں نے
اگرچہ زیست مشکل تھی یہ تیرے بن
مگر سب کچھ گوارا کر لیا میں نے
یہ دنیا نفع کی عادی تو ہے لیکن
محبت میں خسارا کر لیا میں نے
جھکا کر سر گریبانِ جنوں میں پھر
عجب دلکش نظارا کر لیا میں نے
مقدر کی اندھیری رات میں گویا
خود اپنے کو ستارا کر لیا میں نے






