ہستی کا مِری حشر بپا دیکھتے ہوئے

Poet: رشید حسرتؔ By: رشید, Quetta

ہستی کا مِری حشر بپا دیکھتے ہوئے
وہ رو ہی دیا مُجھ کو بُجھا دیکھتے ہوئے

ہم وہ کہ کبھی وقت سے بھی ہار نہ مانیں
برباد کِیا آپ نے کیا دیکھتے ہوئے 

انجان علاقہ تھا، کِیا میں نے تعیُّن
قِبلے کا، فقط قِبلہ نُما دیکھتے ہوئے

مرمر تھا ماں کی قبر پہ نہ باپ کی کبھی
چھلکی ہے آنکھ کتبہ لگا دیکھتے ہوئے

سو جانا چاہیئے کہ نہِیں شب کا جاگنا
اچھّا، وہ شب کا ایک بجا دیکھتے ہوئے

کل تک جو مِرے ایک اِشارے پہ فدا تھے
مُنہ پھیر گئے وقت بُرا دیکھتے ہوئے

بوسِیدہ ہو کے چاک ہوئی ہے جگہ جگہ
مزدُور کے جو تن پہ قبا، دیکھتے ہوئے

بھائی کی یاد آئی ہے بے ساختگی کے ساتھ
بیریں کا پیڑ گھر میں لگا دیکھتے ہوئے

لوٹ آ تو مِرے دوست ترے بعد تِری بزم
نمناک ہوئی آنکھ سجا دیکھتے ہوئے

اللہ کا تُو شُکر ادا کر کہ نہیں ہے
تذلِیل نہ کر، اُس کو گدا دیکھتے ہوئے

بیٹی جو کہہ دیا ہے تُجھے، دل سے کہہ دیا
حسرتؔ ہے سر پہ ہاتھ حیا دیکھتے ہوئے

Rate it:
Views: 665
23 Jun, 2021
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL