بارشوں کے موسم میں
Poet: Ijaz Maqbool Aajiz By: Ijaz Maqbool Aajiz, Lahore💜💜بارشوں کے موسم میں💜
بارشوں کے موسم میں بھیگتے تو ہو گے تم💕
یاد جب کبھی آئے سوچتے تو ہو گے تم
میری ادائے ناز کا قرض تم پہ آج تک
رات کے اندھیروں ڈوبتے تو ہو گے تم
میں بلائے مرض کا مستند حوالا ہوں
آخری محبت کو ڈھونڈتے تو ہو گے تم
خوب تر میں بہتا ہوں یہ بارشوں دین ہے
نیم تر کثافتوں کو تولتے تو ہو گے تم
اب یہ موسموں پہ ہے کہ کس کی بات مان لیں
سرد شام رات میں کانپتے تو ہو گے تم
میں مریضِ عشق تھا تم وفائے کاملاں
حسرتوں کے باب کو روندتے تو ہو گے تم
شوخیاں، آوارگی، سب کی سب تھیں ایک جاں
کچھ خیالِ آئنہ، بولتے تو ہو گے تم
ہم گزارشِ ادب، ہاتھ باندھ کر کھڑے
عشق کے فقیر کو مانتے تو ہو گے تم
آخری ضرورت تھی، تم میری تھی ناخد
آخری حقیقت کو جانتے تو ہو گے تم
ابتدا میں جام تھا انتہا کی آگ تھی
جسم کی ضرورت کو مانگتے تو ہو گے تم
بارشوں کے موسم میں بھیگتے تو ہو گے تم
یاد جب کبھی آئے سوچتے تو ہو گے تم
میں مریضِ عشق تھا تم وفائے کاملاں
حسرتوں کے باب کو روندتے تو ہو گے تم
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔






