بارِ جرم
Poet: اسد جھنڈیر By: اسد جھنڈیر, mirpurkhas بار جرم و خطا ھے محبت
دل کیلیئے دھری سزا ھے محبت
ھے جنوں عشق و دیوانگی بھی
وحشت کی حد انتہا ھے محبت
عقل کے اندھوں سے کیا پوچھتے ہو؟
انہیں کیا معلوم کہ کیا ھے محبت ؟
مجنون سے کوئی پوچھو پیار کے بارے
بارہا یہی کہے گا کہ لیلےآ ھے محبت
کبھی تو درد ھے یہ لا دوا یعنی
اور کبھی درد کی دوا ھے محبت
جو منزل عشق سے بھٹک گئے ہیں
واسطے ان کے مشعل راہ ھے محبت
وہ جو باہمی پیار قائم کرتی ھے
یعنی حد انمول اک رشتہ ھے محبت
وہ جو ہر بگڑا کام بنا لیتی ھے
میری نظر وہ صدقہ ھے محبت
جسطرف بھی دیکھیئے نظر اٹھا کر
ہر طرف فہلی جابجاء ھے محبت
ڈوبتوں سے پوچھو یہی کہیں گے
انکے لیئے تنکا بھی ناخدا ھے محبت
وہ جو عشق کا تاج سر سجائے ہیں
واسطے انکے انمول نگینہ ھے محبت
وہ جو دلوں کو جیت لیتی ھے
مانو ایک ایسی کلا ھے محبت
اے کاش کہیں سے مل جائے
دل کے فقیر کی صدا ھے محبت
سچ کہوں تو زندگی خوبصورت ھے
مگر اس سے بڑہکر ذرا ھے محبت
شاید کوئی اتفاق نہ کرے مجھ سے
مگر جیتے رہنے کی وجہ ھے محبت
اعتبار کی سب سے عمدہ مثال یعنی
لفظی معنوں میں اسد وفا ھے محبت
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔






