باز آؤ سفر سے

Poet: رشِید حسرتؔ By: رشِید حسرتؔ, Quetta

دیکھا نہ گیا اجڑا نگر دیدۂِ تر سے
تھی اتنی گھٹن ہم تو نکل آئے ہیں گھر سے

کچھ ایسےصحیفوں کا ہؤا جاتا ہے ادراک
دل چیخ اٹھا غم سے، صدا آئی جگر سے

اک بات ستاروں نے مرے کان میں کہہ دی
شب بھر کو جگے، چین بھری نیند کو ترسے

موسم کے ارادوں میں تبدل ہے نمایاں
مانو جو مری بات تو باز آؤ سفر سے

جو انجمِ تاباں کا طلب گار نہیں ہے
محروم ہؤا سمجھو گراںبار شجر سے

آنگن میں لگے پیڑوں سے امید بڑی تھی
افسوس مگر ہم تو ہیں محروم ثمر سے

ہم کچھ بھی نہیں خاکِ کفِ پائے بزرگاں
اِس جا پہ ہیں ہم اُن کی دعاؤں کے اثر سے

مسحور بیاباں میں سرابوں کا سفر تھا
انفاس جمے رہتے فسوں کار کے ڈر سے

پھر تُل کے رشیدؔ آیا ہے کفار کا لشکر
کچھ سیکھ نہیں ان کو مگر جنگِ بدر سے
 

Rate it:
Views: 154
10 May, 2025
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL