بدلتے محور

Poet: Sadaf Ghori By: Sadaf Ghori, Quetta

کبھی ماضی کے خوابوں میں
کبھی جو کھو جاؤں تو یہ دیکھوں
کبھی تم جان ہوتے تھے
میرا تم مان ہوتے تھے
کہاں پھر جا بسے جاکر
نجانے چھوڑ کر مجھکو
میں تنہائی میں بکھری تو
مجھکو لفظوں کی بانہوں نے
سہارا دے دیا اس دم
میری ہنستی کی نہیہ کو کنارا دے دیا اس دم
بہے آنسو تو لفظوں نے
ہتھیلی بن کے بہلایا
ہوئی تنہا تو، حرفوں نے گلے میں ڈال دی بانہیں
میری سوچوں کو رنگوں سے
مزین لفظ کرتے ہیں
یہ بس جائیں جو دل میں تو
حسین خوابوں میں ڈلتے ہیں
میں تنہا جب بھی ہوتی ہوں
یہ میرے ساتھ چلتے ہیں
میرے ہونٹوں پہ یہ سج کے
ہنسی کے گل کھلاتے ہیں
جو شب کو نیند نہ آۓ
میرے جب خواب جلتے ہیں
تو پھر یہ لفظ ہی آ کر
نئ اک نظم بنتے ہیں
کبھی غزلوں میں ڈلتے ہیں
صدف پاتال سے ابھری
انہی لفظوں کی طاقت سے
گئ عرش بریں تک پھر
کبھی وہ میرا محور تھا
وہی میرا زمانہ تھا
اور اب میں سب کا محور ہوں
میرا سارا زمانہ ہے

Rate it:
Views: 632
28 Jan, 2014
More Love / Romantic Poetry
" کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں " کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔
MAZHAR IQBAL GONDAL