محبتوں میں اذیّتوں کی دھمال دیکھو
Poet: Aisha Baig Aashi By: Aisha Baig Aashi, karachiمحبتوں میں اذیّتوں کی دھمال دیکھو
وفورِ دیوانگی ءِ جاں کا کمال دیکھو
ہر ایک جانب بس ایک چہرہ ہی ضوفگن ہے
یہ عالمِ خود سپردگی کا جمال دیکھو
ہلال کیسے مہِ مکمل میں جذب ہوگا
یہ جان لو گے جو عالمِ حال و قال دیکھو
جو دیکھنا ہے تو دیکھو دھڑکن کی آرزو کو
نگاہِ دنیا میں جو ہیں مت وہ سوال دیکھو
میں شہرِ تعبیرِ خواہشِ دل بسا رہی ہُوں
نگاہِ صدق و یقیں سے خوابِ وصال دیکھو
نگاہِ دل سے بس اپنی منزل کو دیکھ لینا
رہِ وفا میں جو حوصلوں کو نڈھال دیکھو
نہ کچھ بھی عاشی رہے گا الفت کے آسماں پر
اگر تُم اخلاص کا ستارہ نکال دیکھو
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






