برا نہ مانیں تو چھوٹا سا ایک کام کریں
Poet: Anwar Kazimi By: Anwar Kazimi, mississaugaبرا نہ مانیں تو چھوٹا سا ایک کام کر یں
کوئی مہکتی ہوئی شام میرے نام کر یں
صبا بھی پاوْ ں ترے احترام سے چوُ مے
چمن کے پھول بھی جھک کر تجھے سلام کریں
ہو کا ئنات پر کچھ اپنا اختیار تو ، ہم
یہ سارے چاند ستارے تمہارے نام کریں
مچیَ ہے ایک عجب سی اُدھیڑ بن دل میں
اب انکے آ نے پہ کیا خاک اہتمام کریں
لٹا کے خود کو کبھی جس گلی سے نکلے تھے
اُسی گلی میں چلو زند گی کی شام کر یں
اگر ملالِ ستم ہے تو باز آ جا ئیں
اگر ہے لطف، تو یہ لطف لطفِ عام کر یں
بس احتیاط یہ رکھیں چمن کے پھول کہ ہم
ذرا اداس ہیں ، دھیمے سے ہمکلام کر یں
بلادِ غیب سے اُتری ہے ہم پہ دل کی کتاب
جو ہم نے شعر کہے ، ا نکا احترام کر یں
ملو ادب سے ، غر یبوں کے بادشاہ ہیں ہم
امیرِ شہر بھی جھک کر ہمیں سلام کرٰ یں
جو ہو سکے تو کرایہ د یں خانہ ء دل کا
وگرنہ آپ کہیں اور انتظام کر یں
مقام خاص یہ دنیا نہیں ہے انور جی
سرائے عام سمجھ کر یہاں قیام کر یں
تم ہم سے منانے کی بات کیوں کرتے ہو
ہم یونہی پیار کر لیتے ہیں تمھیں
ہمیں تڑپانے کی بات کیوں کرتے ہو
اس بے رخی میں کتنی محبت ہے چھپی
پیار ہے پھر ترسانے کی بات کیوں کرتے ہو
باتیں ساری تم سے وابستہ اچھی لگتی ہیں
کیوں نہیں انھیں دھرانے کی بات کرتے ہو
جتنی چاہت چاہو گے ہم کریں گے تم سے
پھر بینا سے آزمانے کی بات کیوں کرتے ہو
انکھیوں میں تمھیں چھپا کے
پرستان تمھیں لے جا کے
رکھیں گے اپنا بنا کے
سنگ ہونگے نکاح سے
ہم اللہ کو گواہ بنا کے
خوشیاں منا کے
گھر تم سے بسا کے
چاند کی ٹھنڈک میں
مدھم مدھم روشنی میں
ہلکی ہلکی بارش میں
روپہلی دھوپ سنہری میں
ہولے ہولے دل ڈھڑ کتے
دھیرے دھیرے سانس چلتے
چاہت میں ڈوبے ڈوبے
اک دوسرے سے پیار کرتے
آپ کی شہد سی میٹھی باتوں میں کھوئے رہیں گے
بینا آپ کے ہوکے ہم آپ کے ہی ہوئے رہیں گے






