برا نہ مانیں تو چھوٹا سا ایک کام کریں

Poet: Anwar Kazimi By: Anwar Kazimi, mississauga

برا نہ مانیں تو چھوٹا سا ایک کام کر یں
کوئی مہکتی ہوئی شام میرے نام کر یں

صبا بھی پاوْ ں ترے احترام سے چوُ مے
چمن کے پھول بھی جھک کر تجھے سلام کریں

ہو کا ئنات پر کچھ اپنا اختیار تو ، ہم
یہ سارے چاند ستارے تمہارے نام کریں

مچیَ ہے ایک عجب سی اُدھیڑ بن دل میں
اب انکے آ نے پہ کیا خاک اہتمام کریں

لٹا کے خود کو کبھی جس گلی سے نکلے تھے
اُسی گلی میں چلو زند گی کی شام کر یں

اگر ملالِ ستم ہے تو باز آ جا ئیں
اگر ہے لطف، تو یہ لطف لطفِ عام کر یں

بس احتیاط یہ رکھیں چمن کے پھول کہ ہم
ذرا اداس ہیں ، دھیمے سے ہمکلام کر یں

بلادِ غیب سے اُتری ہے ہم پہ دل کی کتاب
جو ہم نے شعر کہے ، ا نکا احترام کر یں

ملو ادب سے ، غر یبوں کے بادشاہ ہیں ہم
امیرِ شہر بھی جھک کر ہمیں سلام کرٰ یں

جو ہو سکے تو کرایہ د یں خانہ ء دل کا
وگرنہ آپ کہیں اور انتظام کر یں

مقام خاص یہ دنیا نہیں ہے انور جی
سرائے عام سمجھ کر یہاں قیام کر یں
 

Rate it:
Views: 808
12 Feb, 2013
More Love / Romantic Poetry
" کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں " کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔
MAZHAR IQBAL GONDAL