برسوں پہلے ایک خواب میں نے دیکھا تھا
Poet: ارشد ارشی By: Muhammad Arshad Qureshi (Arshi), Karachiبرسوں پہلے ایک خواب میں نے دیکھا تھا
ایک حسین پھولوں کی وادی تھی
جہاں خوبصورت تتلیاں اور جگنو تھے
وہ تتلیوں کو ہاتھوں میں بند کرکے اڑاتی تھی
میں پھولوں کو چن کر ایک گلدستہ بناتا تھا
اسے جب پیش کرتا تھا وہ بہت مسکراتی تھی
پھر ایک بینچ پھر بیٹھ کر سورج ڈھلنے کا انتظار کرتے تھے
اندھیرا ہوتے ہی بہت سارے جگنو وہاں پرواز کرتے تھے
میری جب آنکھ کھلی تو میں بہت اداس ہوا تھا
مجھے اس وادی میں رہنا تھا اس سے باتیں کرنی تھیں
مدتوں بعد کل رات میں نے پھر وہی خواب دیکھا تھا
وادی تو وہی تھی مگر منظر بہت اداس دیکھا تھا
پھول سارے گر گئے اور پودے سوکھے ہوئے تھے
مردہ تتلیوں کے پر ادھر ادھر بکھرے پڑے تھے
وہ جگنو سارے اب مر چکے تھےاس بینچ کو بھی گھن لگا تھا
گھپ اندھیرا تھا اور میں بھی تنہا تھا
اب میں چاہتا تھا کہ میری آنکھ کھل جائے
مجھے اب اپنی دنیا میں واپس جانا تھا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
تمہیں ہم سے ہے بےزاری، مان لیتے ہیں
ہماری جان لینے والو! اتنا جان رکھو
ہم اپنی جان بھی تم پر ہی وار دیتے ہیں
وقتِ مرگ میرے جنازے پہ آ کے دیکھو
جو روتے ہیں، انھیں ہم اب حساب دیتے ہیں
مری تربت پہ اتنے اشک نہ بہا پروین
ہمیں کافور کے غسل کا حکم دیتے ہیں
تم سے کن حالات میں کیسے محبت سے وفا نبھا رہا ہے کوئی
ہو گی قدر تمھیں اس وقت جب پتہ چلے گا ہماری چاہت کا
دیکھو ادھر اک نظر کس قدر پیار سے تم کو منا رہا ہے کوئ
جان ہے کہ جا ئے جا رہی ہے یونہی .
تمھاری بے رخی پہ دور جا رہا ہے کوئی .
کس قدر مشکل میں ہے جاں بینا تم ہی نہ جانو
بن کہے پیار سے پیار تم سے نبھارہا ہے کوئی






