برسوں پہلے ایک خواب میں نے دیکھا تھا

Poet: ارشد ارشی By: Muhammad Arshad Qureshi (Arshi), Karachi

برسوں پہلے ایک خواب میں نے دیکھا تھا
ایک حسین پھولوں کی وادی تھی

جہاں خوبصورت تتلیاں اور جگنو تھے
وہ تتلیوں کو ہاتھوں میں بند کرکے اڑاتی تھی

میں پھولوں کو چن کر ایک گلدستہ بناتا تھا
اسے جب پیش کرتا تھا وہ بہت مسکراتی تھی

پھر ایک بینچ پھر بیٹھ کر سورج ڈھلنے کا انتظار کرتے تھے
اندھیرا ہوتے ہی بہت سارے جگنو وہاں پرواز کرتے تھے

میری جب آنکھ کھلی تو میں بہت اداس ہوا تھا
مجھے اس وادی میں رہنا تھا اس سے باتیں کرنی تھیں

مدتوں بعد کل رات میں نے پھر وہی خواب دیکھا تھا
وادی تو وہی تھی مگر منظر بہت اداس دیکھا تھا

پھول سارے گر گئے اور پودے سوکھے ہوئے تھے
مردہ تتلیوں کے پر ادھر ادھر بکھرے پڑے تھے

وہ جگنو سارے اب مر چکے تھےاس بینچ کو بھی گھن لگا تھا
گھپ اندھیرا تھا اور میں بھی تنہا تھا

اب میں چاہتا تھا کہ میری آنکھ کھل جائے
مجھے اب اپنی دنیا میں واپس جانا تھا

Rate it:
Views: 425
09 Dec, 2015
More Love / Romantic Poetry
" کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں " کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔
MAZHAR IQBAL GONDAL