بری زمانے کی مجھ کو ہوا نہ لگ جائے
Poet: By: AB shahzad, Mailsiبری زمانے کی مجھ کو ہوا نہ لگ جائے
کبھی مری بھی کہیں پر صدا نہ لگ جائے
خلوص سے سبھی کو ملتا اس لیے ہوں میں
کسی غریب کی مجھے بد دعا نہ لگ جائے
مرے تو لمس طنابیں بھی کھینچ لی اس نے
میں اس لیے گیا ڈر ڈائقہ نہ لگ جائے
یہ پوچھنا تھا کہ تم نے کسی سے پیار بھی کیا
تجھے بھی روگ محبت سدا نہ لگ جائے
نہ آشنا ہوں حقیقت ہے عشق تیرے کی کیا
یہ پیار ہوتا ہے کیا مبتدا نہ لگ جائے
زمانے سے میں نہیں ڈرتا اس کا ڈر تو ہے
مرے ہی پیچھے یہ کوئی بلا نہ لگ جائے
میں اس لیے ہی یہاں چھپ کے بیٹھا ہوں شہزاد
ادھر ہی ہوں میں یہ اس کو پتا نہ لگ جائے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






