مراد یہ کہ آئنے میں کھو گئے گئے
Poet: محمد حذیفہ جلال الدین رضوان By: محمد حذیفہ جلال الدین رضوان, Attockمراد یہ کہ آئنے میں کھو گئے گئے
گرے اٹھے چلے خیال جو گئے گئے
خدا کرے مرض تجھے لگے یہی کبھی
کہے لہو نہیں مرا وہ جو گئے گئے
کہوں تجھے دوا ملی اگر کبھی کہیں
سمجھ قضا ہوا اگر تو سو گئے گئے
یقیں خیال پر کیا ہوا اسی طرح
اگر گیا کبھی خیال وہ گئے گئے
گراں بہت جلال شب تری ہوا کرے
ابھی دعا کرو وگرنہ تو گئے گئے
More Love / Romantic Poetry






