بزم و بازار میں ہر جا ٹھہرا
Poet: Basheer Badr By: TARIQ BALOCH, HUB CHOWKIبزم و بازار میں ہر جا ٹھہرا
دل اکیلا تھا، اکیلا ٹھہرا
دوڑتے پیڑ گرے میری طرح
ساتھ چلتا ہوا صحرا ٹھہرا
یاد ٹھہرے ہوئے دریا کابہاؤ
فکر بہتا ہوا دریا ٹھہرا
گرد آلود ہوا دشت ادب
جب بھی احساس کا دریا ٹھہرا
بد نظر صاحب دیدہ کہلائے
میں نے گھورا نہیں اندھا ٹھہرا
ضبط و تہذیب کی قدریں ٹھہریں
میں نہیں چیخا وہاں گونگا ٹھہرا
تاڑ کی طرح میں سیدھا سچا
ترچھا دیکھا مجھے ترچھا ٹھہرا
ابتداء میں کئی ہم جیسے تھے
آخر کوئی نہ ہم سا ٹھہرا
آنکھ پہ شیشہ صد رنگ چڑھا
دھوپ کا رنگ سنہرا ٹھہرا
نقرعی قہقہہ شرما کے بولا
رنگ و نور کا دریا ٹھہرا
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






