بزم و بازار میں ہر جا ٹھہرا

Poet: Basheer Badr By: TARIQ BALOCH, HUB CHOWKI

بزم و بازار میں ہر جا ٹھہرا
دل اکیلا تھا، اکیلا ٹھہرا

دوڑتے پیڑ گرے میری طرح
ساتھ چلتا ہوا صحرا ٹھہرا

یاد ٹھہرے ہوئے دریا کابہاؤ
فکر بہتا ہوا دریا ٹھہرا

گرد آلود ہوا دشت ادب
جب بھی احساس کا دریا ٹھہرا

بد نظر صاحب دیدہ کہلائے
میں نے گھورا نہیں اندھا ٹھہرا

ضبط و تہذیب کی قدریں ٹھہریں
میں نہیں چیخا وہاں گونگا ٹھہرا

تاڑ کی طرح میں سیدھا سچا
ترچھا دیکھا مجھے ترچھا ٹھہرا

ابتداء میں کئی ہم جیسے تھے
آخر کوئی نہ ہم سا ٹھہرا

آنکھ پہ شیشہ صد رنگ چڑھا
دھوپ کا رنگ سنہرا ٹھہرا

نقرعی قہقہہ شرما کے بولا
رنگ و نور کا دریا ٹھہرا

Rate it:
Views: 396
09 Dec, 2011
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL