بس اک پتلا تھا مٹی سے بنا میں

Poet: فاروق نور By: فاروق نور, Burhanpur

بس اک پتلا تھا مٹی سے بنا میں
کرم تیرا کہ کیا سے کیا ہوا میں

تری پہچان جس دن سے ہوئی ہے
ہوں اپنے آپ کو بھولا ہوا میں

اکیلا ہے اگر کوئی تو؛ توُ ہے
جو تنہا ہوں تو ہوں تیرے سوا میں

جو کچھ ہوتا تو شاید کچھ نہ ہوتا
نہ ہوکے کے کچھ بہت کچھ ہو گیا میں

ہے میری ذات کا عرفان مشکل
کہیں پتھر کہیں ہوں دیوتا میں

تمہارا رنگ جس دن سے چڑھا ہے
نظر آنے لگا سب سے جدا میں

فنا ہونی ہے جب ہر شہ یہاں کی
تو پھر کیا چیز ہے تو اور کیا میں

ٹھٹھرتی شام میں جلتا ہوا وہ
سلگتی رات میں بجھتا ہوا میں

نئی رت میں نئی تھی چاہ ہم کو
ذرا وہ بے وفا تھا اور ذرا میں

گرا تھا اپنی ہی نظروں میں ایسا
نہ کر پایا پھر اپنا سامنا میں

کہیں ظالم کی ہے امداد مجھ سے
کہیں مظلوم کا حرفِ دعا میں

اگر اس شہر میں شاعر ہے کوئی
تو پہلا نور ہے اور دوسرا میں
 

Rate it:
Views: 380
15 Jun, 2023
More Love / Romantic Poetry
" کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں " کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔
MAZHAR IQBAL GONDAL