بس سمجھ جانا یہی عشق ہے جاناں

Poet: Roshani By: Roshani, U.A.E

پوچھتے ہو کیا ہے عشق تو سنو جاناں
ساحل سمندر پر
ایک مٹھی ریت لے کر
اسے بند کر لینا
پھر کھول دینا
دھیرے دھیرے
ریت گر جائے ساری
ہاتھ رہ جائے خالی
بس سمجھ جانا
یہی عشق ہے جاناں
کبھی سہانی صبح میں
آنکھ کھولتے سورج کو
دور سے دیکھنا
بہت سہانا لگے منظر
کچھ دیر ایسے گزرئے وقت
پھر سورج کا سر پر چلے آنا
اپنی تیز دھوپ سے
تیرے بدن کو جلانا
بس سمجھ جانا
یہی عشق ہے جاناں
رات کی تنہائی میں
سوچوں کی گہرائی میں
کسی کو دل میں بسانا
پھر سانسوں میں درد جگانا
رات اور دن
وصال میں رہنا
اک دن اس کامکر جانا
سوچوں کا بکھر جانا
بس سمجھ جانا
یہی عشق ہے جاناں
کبھی موسم بہار میں
پھولوں کو جو کھلتے دیکھو
خوبصورت رنگ برنگے
دلکش نظارئے ہوں
پھر جو خزاں آ جائے
پھول مرجھا جائیں
پتیوں کا بکھر جانا
بس سمجھ جانا
یہی عشق ہے جاناں
کبھی جو صحرا میں ہو
منزل کا پتہ نا ہو
گرم لو چلتی ہو
پانی کی اک بوند نا ہو
سورج کی جلتی دھوپ ہو
پانی کی اکب بوند کیلئے
تیرا بہت بلبلانا
بس سمجھ جانا
یہی عشق ہے جاناں

Rate it:
Views: 648
08 Jun, 2011
More Love / Romantic Poetry
" کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں " کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔
MAZHAR IQBAL GONDAL