بعد مُدت کے وہ آیا اُسے مِل جانے دو

Poet: ندیم مراد By: ندیم مراد , امٹاٹا ساؤتھ افریکا

بعد مُدت کے وہ آیا اُسے مِل جانے دو
آنسوؤ! تھوڑا سا ٹھہرو اُسے بہلانے دو

دل میں جو بات ہے ہونٹوں پہ اُسے آنے دو
اور جو گھبراتا ہے دل تو اُسے گھبرانے دو

اتنے دُکھ ہیں کہ ہنسی ہو گئی جنسِ نایاب
مہربانی کرو ہونٹوں پہ ہنسی آنے دو

اپنے گُلدان میں پُھولوں کو سجاؤ لیکن
کچی کلیوں کو نہ توڑو انہیں کِھل جانے دو

دُکھ تو دُکھ ہیں وہ سدا ساتھ رہیں گے لیکن
ساتھ ہو تیرا تو طوفانوں کو ٹکرانے دو

کانپتے ہونٹوں سے اظہارِ محبت کردو
اپنے آنسو نہ پیو آنکھ سے بہہ جانے دو

منزلِ شوق میں دیکھا نہیں جاتا پیچھے
رہ گیا پیچھے اگر کوئی تو رہ جانے دو

مُسکراتے رہو دُکھ اپنے چھپاؤ سب سے
اپنا مل جائے تو اشک آنکھوں کو ٹپکانے دو

تم کرو کام ندیم اپنے زمانے کیلئے
اور زمانہ جو خفا ہو تو قہر ڈھانے دو

Rate it:
Views: 565
01 Sep, 2012
More Love / Romantic Poetry
" کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں " کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔
MAZHAR IQBAL GONDAL