بن کے خوشبو کی ہی تمثیل، چلو رقص کریں
Poet: AzharM By: AzharM, Dohaبن کے خوشبو کی ہی تمثیل، چلو رقص کریں
اب ہواؤں میں ہوں تحلیل، چلو رقص کریں
تُم اندھیروں کے مسافر ہو تُمہیں کیا مطلب
ایک تھی بجھ گئی قندیل، چلو رقص کریں
ناروا مال، کہا ں کیسے بنایا تُم نے
کون پوچھے گا یہ تفصیل، چلو رقص کریں
وہ نہیں تب بھی شب وصل منا لیتے ہیں
آج ہجراں کی ہے تعطیل، چلو رقص کریں
متقی آج بھی مقبول تری قربانی
دور موجودہ کے قابیل، چلو رقص کریں
ابرہہ وقت کا یلغار کرے گا پھر سے
آو کعبہ کے ابابیل، چلو رقص کریں
حکم حاکم ہے جہاں مرگ مفاجات بھی ہے
تُم بھی اظہر کرو تعمیل، چلو رقص کریں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






