بن کے ہجرت کے کئی خواب نکل آتے ہیں
درد آنکھوں کے تہہِ آب نکل آتے ہیں
کب سے آنکھوں میں چھپے بیٹھے ہیں آنسو بن کر
آپ کہتے ہیں جو آداب ، نکل آتے ہیں
آج مر مر کے دکھائیں گے تجھے ، دیکھ ذرا
زندہ رہنے کے تو اسباب نکل آتے ہیں
پھر کسی روز محبت سے بلاؤ ہم کو
تیرے کوچے سے ہی بیتاب نکل آتے ہیں
تیری خواہش کے سرابوں میں کٹی ایسے حیات
اب تو سوچوں میں بھی گرداب نکل آتے ہیں
اپنے دشمن پہ کیا میں نے بھروسہ وشمہ
َ"بعض پتھر بڑے نایاب نکل آتے ہیں"