بنا گُلاب تو کانٹے چُبھا گیا اِک شخص

Poet: Abaid Ullah Aleem By: Najeeb Ur Rehman, Lahore

بنا گُلاب تو کانٹے چُبھا گیا اِک شخص
ہوا چراغ تو گھر ہی جلا گیا اِک شخص

تمام رنگ میرے اور سارے خواب میرے
فسانہ تھے کہ فسانہ بنا گیا اِک شخص

میں کس ہوا میں اُڑوں کس فضا میں لہراؤں
دُکھوں کے جال ہر اک سُو بچھا گیا اِک شخص

پَلٹ سکوں مَیں نہ آگے ہی بڑھ سکوں جس پر
مُجھے یہ کون سے رَستے لگا گیا اِک شخص

محبتیں بھی عجب اس کی نفرتیں بھی کمال
میری طرح کا ہی مجھ میں سما گیا اِک شخص

محبتوں نے کسی کی بُھلا رکھا تھا اُسے
ملے وہ زخم کہ پھر یاد آ گیا اِک شخص

وہ ماہتاب تھا، مرہم بدست آیا تھا
مگر کچھ اور سوا دل دُکھا گیا اِک شخص

کُھلا یہ راز کہ آئینہ خانہ ہے دُنیا
اور اس میں مُجھ کو تماشا بنا گیا اِک شخص

Rate it:
Views: 1298
31 May, 2009
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL