درد بے شمار ہوا چاھتا ھے
Poet: اسد رضا By: اسد رضا, mpsدرد بے شمار ہوا چاھتا ھے
بڑھتے حد سے پار ہوا چاھتا ھے۔
نہیں معلوم کوئی وجہہ کارن۔
ہاں مگر کوئی آزار ہوا چاھتا ھے۔
کوں ؟ جانے یہ بیماری کیا ھے؟
ہلکا ہلکا سا بخار ہوا چاھتا ھے۔
دل دھڑکتا ھے دھک دھک دھک دھک
یعنی دل تیز رفتار ہوا چاھتا ھے۔
نہیں معلوم کہ یہ بےچینی کیسی ھے۔
کیوں اس قدر بیقرار ہوا چاھتا ھے؟
لوگ کہتے ہین لا دوا اس کو۔
یونی عشق کا بخار ہوا چاھتا ھے۔
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






