بچھڑ کے برسوں ملے ہو ، کہو کہ پہچانا ؟
Poet: Anwar Kazimi By: Anwar Kazimi, mississauga, Canadaبچھڑ کے برسو ں ملے ہو کہو کہ پہچا نا
سنو کہ عر صہ ہو ا مرَ گیا و ہ د یو ا نہ
کہا تو میں نے نہیں پر یہ چا ہتا ہوں کہ تم
جو ہو سکے تو کسی ر و ز میر ے گھر آ نا
ہوا چلی تو ِکھلیں گے گلاب ہونٹوں کے
چلی ہو ا تو درختو ں میں چھپُ کے شر ما نا
جو کھلُ سکے دمِ وحشت لبِ حنا کا فسو ں
شبِ سیاہ ة کی زلفیں سنو ا ر تے جا نا
یہ کیسی آ گ دھکتی ہے سینہء شب میں
کرم ہو یا کہ ستم ہو اسے بجھا جا نا
تمہا ر ے سا منے آ تا ہوں سو بہانوں سے
عجیب شخص ہوں رہتا ہوں بنَ کے بیگا نہ
نظر بچا کے میری سمت د یکھنے و الے
تمہارے بس کا نہیں رو گ ظلم فر مانا
و ہ سات سال بچھڑ کر ملا مگر کچھ یو ں
کہ مجھ کو د یکھ کے چو نکا ، مگر نہ پہچا نا
خدا کا شکر بہت خوش ہے بال بچوں میں
ترے شہر سے بہت د و ر تیرا د یو انہ
کھلا یہ را ز کہ ا نو ر تو سخت کا فر تھا
برا ہو ا جو اُ ے عمر بھر خد ا جا نا
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔






