دینا نہیں کسی کو ، توڑنہ دے کہیں کوئی بے قدری سے اسے
Poet: Humera Sajid By: Humera Sajid, Lahoreدینا نہیں کسی کو ، توڑنہ دے کہیں کوئی بے قدری سے اسے
مجھے ہی دے دو ،دینا تو ہے تم کو اک دن کسی کو اسے
نہ جان نہ پہچان، کیا پتہ تم ہو بے ایمان کیسے تمھیں دے دوں اسے
دل تو یونہی دیے جاتے ہیں، کون چوٹ لگاگیا ،بعد میں پتہ چلتا ہے اسے
کیا لڑکیوں کی طرح کر رہے ہو باتیں ،نازک بڑا ہے چوٹ نہ لگانا اسے
بڑے نخرے اٹھائے ہیں اس کے بڑے نازوں سے پالا ہے میں نے اسے
ٹوٹنا تو مقدرہے اس کا ، غیر نہ سہی کوئی اپنا چکنا چور کر جائے گا اسے
قریبی رشتہ دار کی چو ٹ تو سہ جاتا ہے ، بس محبت کا روگ مار دیتا ہے اسے
کسی کو دینا ہی نہی ہے میں نے ،بس اپنے ہی پاس رکھنا ہے اسے
میں بڑے پیار سے سنبھال کر رکھوں گی اسے ،مجھے ہی دے دو اسے
تم کیا سنبھال کے رکھو گی ، ہمیشہ سے نہ بھرنے والا زخم محبوب ہی دے جاتا ہے اسے
مجھ جیسا ملے گا نہی سوچ لو ، پھر نہ پچھتانا ، کسی کا تو ہو ہی جانا ہے اسے
زیادہ عرصے پاس تمھارے رہے گا نہی ،چوٹ کھانے میں مزہ آتا ہے اسے
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے






