دینا نہیں کسی کو ، توڑنہ دے کہیں کوئی بے قدری سے اسے
Poet: Humera Sajid By: Humera Sajid, Lahoreدینا نہیں کسی کو ، توڑنہ دے کہیں کوئی بے قدری سے اسے
مجھے ہی دے دو ،دینا تو ہے تم کو اک دن کسی کو اسے
نہ جان نہ پہچان، کیا پتہ تم ہو بے ایمان کیسے تمھیں دے دوں اسے
دل تو یونہی دیے جاتے ہیں، کون چوٹ لگاگیا ،بعد میں پتہ چلتا ہے اسے
کیا لڑکیوں کی طرح کر رہے ہو باتیں ،نازک بڑا ہے چوٹ نہ لگانا اسے
بڑے نخرے اٹھائے ہیں اس کے بڑے نازوں سے پالا ہے میں نے اسے
ٹوٹنا تو مقدرہے اس کا ، غیر نہ سہی کوئی اپنا چکنا چور کر جائے گا اسے
قریبی رشتہ دار کی چو ٹ تو سہ جاتا ہے ، بس محبت کا روگ مار دیتا ہے اسے
کسی کو دینا ہی نہی ہے میں نے ،بس اپنے ہی پاس رکھنا ہے اسے
میں بڑے پیار سے سنبھال کر رکھوں گی اسے ،مجھے ہی دے دو اسے
تم کیا سنبھال کے رکھو گی ، ہمیشہ سے نہ بھرنے والا زخم محبوب ہی دے جاتا ہے اسے
مجھ جیسا ملے گا نہی سوچ لو ، پھر نہ پچھتانا ، کسی کا تو ہو ہی جانا ہے اسے
زیادہ عرصے پاس تمھارے رہے گا نہی ،چوٹ کھانے میں مزہ آتا ہے اسے
ہر ایک صبح یہاں بن کے سوگ ساتھ رہے گی
چنار شاخ پہ بیٹھا پرندہ بھی سہما ہوا ہے
کہ گولیوں کی صدا اب تو دن کی بات رہے گی
جنازے اٹھتے ہیں، مائیں ہیں پتھرائی ہوئی سی
یہ کس کے نام لکھوں کون سی حیات رہے گی؟
جھیلِ ڈل کا پانی بھی اب سوال کرتا ہے
کہ کتنے خواب ڈبوؤ گے کب یہ گھات رہے گی؟
وہ اسکول بند پڑے ہیں، کتابیں جل رہی ہیں
بتاؤ اے مرے رب نسل کب نجات پائے گی؟
کبھی تو تھا یہ چمن امن کا گہوارہ لیکن
اب اس زمیں پہ فقط آہ کا ثبات رہے گا
لہو سے لکھتے ہیں ہم داستاں کشمیر کی
یہ داستاں نہ سہیںپر یہ کائنات رہے گی
مسعودؔ دردِ وطن کو قلم میں ڈھالتا رہے گا
جب تک لہو میں حرارت ہے یہ صدا ساتھ رہے گی
دل کو مبتلائے غم کر کے مسکرا رہا ہے صنم
اکیلے ہی گزارا کر لیا میں نے
سکوں ملتا نہیں مجھ کو اجالے میں
اندھیروں کو ہی پیارا کر لیا میں نے
اگرچہ زیست مشکل تھی یہ تیرے بن
مگر سب کچھ گوارا کر لیا میں نے
یہ دنیا نفع کی عادی تو ہے لیکن
محبت میں خسارا کر لیا میں نے
جھکا کر سر گریبانِ جنوں میں پھر
عجب دلکش نظارا کر لیا میں نے
مقدر کی اندھیری رات میں گویا
خود اپنے کو ستارا کر لیا میں نے






