بڑا بے قرار ہوں میں میری لو خبر یا وارث

Poet: Mohammed Iqbal Ishrat Warsi By: Ishrat Iqbal Warsi, mirpurkhas

بڑا بے قرار ہوں میں میری لو خبر یا وارث
تیری راہ تک رہا ہے تیرا منتظر یا وارث

بڑی بے رنگی ہے دنیا بڑا بے سکون قالب
تیرے در پہ زندگی ہو میری اب بسر یا وارث

سبھی ربط میرے ٹوٹے بڑی بے رخی سے چھوٹے
میرا حوصلہ بڑھانا میرے آ کہ گھر یا وارث

مجھے چھوڑ کے اکیلا چلا کاروان دیوہ
ہے سزا اگر خطا کی کرو درگزر یا وارث

وہ جو کل تھے ساتھ میرے وہی رخ کو اپنے پھیرے
کبھی دیکھتے ادھر ہیں کبھی وہ ادھر یا وارث

میرا حال زار ابتر تیری یاد سے ہے بہتر
تیرا وارثی عشرت کرے اب سفر یا وارث

Rate it:
Views: 418
16 Jul, 2009
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL