بڑی ویرانی ہے میرے دل کے دیار میں
Poet: M.ASGHAR MIRPURI By: M.ASGHAR MIRPURI, BIRMINGHAMبڑی ویرانی ہے میرےدل کےدیار میں
اب کےبرس خزاں چلی آئی ہےبہار میں
میری امیدوں کاچمن ہرا بھرا ہو جائے
ایک بار تو جو آئےمیرےاجڑےگلزارمیں
میری مجبوری کو بےوفائی کا نام نا دے
کسی بات کےلیے نہیں ہوں سزاوار میں
اگر پھر بھی تیری نظروں میں مجرم ہوں
آ اپنےگیسوؤں سےکرلےگرفتار مجھے
میںتیرا چہرہ آنکھوں میں بسا لوں گا
ایک با ر آ کےتو دےجا اپنا دیدار مجھے
تجھ سےملنےکی مجھے تشنگی رہتی ہے
اس طرح پیاسا رکھ کے تو نا مار مجھے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






