عید کا چاند
Poet: ISHTIAQ KAZMI By: WAQAS SHAH, rawalpindiبیٹھے بیٹھے خیالوں میں بنایا وہ عید کا چاند
آج ہمیں یاد بہت آیا وہ عید کا چاند
لوگ ابھی آسماں سے کچھہ ڈھونڈھ رہے تھے
تجھے دیکھہ کے بے ساختہ میں چلایا وہ عید کا چاند
قسمت مجھہ پہ اور مہربان ہو گی کیسے
عید سے پہلے ہی چلا آیا وہ عید کا چاند
خدابھی عید بھی اور خوشیاں بھی روٹھی رہیں گی مجھہ سے
عید سے پہلے اگر وہ نہ منایا وہ عید کا چاند
اب فلک پہ کیا دیکھنا ہے باقی یارو
اب تو ہے بام پہ چلا آیا وہ عید کا چاند
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






