بڑےبڑے لوگوں سے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
Poet: m.asghar mirpuri By: m.asghar mirpuri, birminghahamبڑے بڑے لوگوں سے یاروں کی شناسائیاں بہت ہیں
اسی لیے میرے خلاف ہوتی محاذ آرائیاں بہت ہیں
خدا کے لیے تم لوگ مجھ پہ تہمتیں نہ لگاؤ
اس کام کے لیے میری ہمسائیاں بہت ہیں
میرے رقیبوں کو بھلا حسد کیوں نہ ہو
ریڈیو پر ہم نے دھومیں مچائیاں بہت ہیں
محبت کی دنیا میں سنبھل کر قدم رکھنا
سنا ہے ان راہوں میں کھڈے کھائیاں بہت ہیں
کم لباس میں جب نظر آتی ہیں کئی بیبیاں
لگتا ہے کہ اب کپڑے کی مہنگائیاں بہت ہیں
ہم نے تو کئی محفلوں کو رونقیں بخشیں اصغر
مگر اپنے مقدر میں تنہائیاں بہت ہیں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






