پیر صاحب سب کو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
Poet: m.asghar mirpuri By: m.asghar mirpuri, birminghahamپیر صاحب سب کو تعویز باکمال دیتے ہیں
میں جب بھی جاؤں مجھے ٹال دیتے ہیں
جس کے سر پر محبت کا بھوت طاری ہو
تھوڑا نزرانہ لے کر اسے نکال دیتے ہیں
جو کوئی محبوب کی بے وفائی کی شکایت کرے
اسے آنسو پونچھنے کے لیے رومال دیتے ہیں
اور کسی سے مل کر انہیں مسرت نہیں ہوتی
مجھے دیکھتے ہی پا دھمال دیتے ہیں
امیروں کے کھانے میں بریانی و مرغ مسلم
میرے جیسے غریبوں کو روٹی اور دال دیتے ہیں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






