بکرا “ قطعات “
Poet: Usman Tarar By: Usman Tarar, Hafizabadبکرا
چھوٹا سا ملازم ہوں اور سوسائٹی ہے بڑی اپنی
بڑی مشکل سے قربانی کی اک نوید لایا ہوں
ہمسایوں کے سامنے کہیں مری ناک نہ کٹ جائے
میں گاڑی بیچ کر اپنی اک بکرا خرید لایا ہوں
مہنگائی
جو کچھ بھی تھا نکال دیا جیبوں کو جھاڑ کر
بیگم پھر بھی کہتی ہے کہ اسے خرچہ نہیں ملتا
اک دور تھا چالیس ہزار میں بیاہ لاتے تھے دلہن
اک دور ہے کہ اس رقم میں بھی بکرا نہیں ملتا
کھال
امریکی ڈالر بھی تمھاری حوس کو مٹا نہ سکے
اے مرے دیس کے حکمرانوں تم کتنے عجیب ہو
عثمان اب کے سال قربانی بانٹیے گا ذرا اس طرح
کھال حکومت کو دیجئیے گا اور گوشت غریب کو
گوشت
قربانی کا گوشت رکھ لیا تو نے سنبھال کر
اس شہر کے غریبوں کا کچھ تو خیال کر
حق داروں کو حق دے ضمیر کو جگا ذرا
غریبوں میں بانٹ دے اسے فریزر سے نکال کر
ملک
پولیس ، فوج اور عوام کوئی بھی محفوظ نہیں
ہر کسی کی جان کو خطرہ بنا ہوا ہے
بیرونی ایجنسیوں کے ہاتھ میں ہے چھری
اور بیچارہ ملک اپنا بکرا بنا ہوا ہے
وہ بہن بھی تو زمانے میں ہے اب نبھاتی ہیں
ماں کی الفت کا کوئی بھی نہیں ہے اب بدل
پر بہن بھی تو محبت میں ہے ایثار نبھاتی ہیں
گھر کے آنگن میں جو پھیلے ہیں یہ الفت کے ضیا
یہ بہن ہی تو ہیں جو گھر میں یہ انوار نبھاتی ہیں
ماں کے جانے کے بعد گھر جو ہے اک اجڑا سا نگر
وہ بہن ہی تو ہیں جو گھر کو ہے گلزار نبھاتی ہیں
دکھ میں بھائی کے جو ہوتی ہیں ہمیشہ ہی شریک
وہ بہن ہی تو ہیں جو الفت میں ہے غمخوار نبھاتی ہیں
ماں کی صورت ہی نظر آتی ہے بہنوں میں ہمیں
جب وہ الفت سے ہمیں پیار سے سرشار نبھاتی ہیں
مظہرؔ ان بہنوں کی عظمت کا قصیدہ کیا لکھیں
یہ تو دنیا میں محبت کا ہی وقار نبھاتی ہیں
زماں میں قدر دے اردو زباں کو تو
زباں سیکھے تو انگریزی بھولے ا پنی
عیاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
تو سیکھ دوسری ضرورت تک ہو ایسے کہ
مہاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
زباں غیر کی ہے کیوں اہمیت بتا مجھ کو
سماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
سنہرے لفظ اس کے خوب بناوٹ بھی
زماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
بھولے کیوں خاکؔ طیبؔ ہم زباں ا پنی
جہاں میں قدر دے اُردو ز باں کو تو







