آنکھیں بجھی بجھی سی لہجہ تھکا تھکا سا

Poet: M.Z By: M.Z, karachi

آنکھیں بجھی بجھی سی لہجہ تھکا تھکا سا
پھر ضبط کر رھے ھو کوئی غم نیا نیا سا

مشکل نھیں یہ دنیا پھر بات مان جائیے
کہنے تو دو جو حق ھے یہ حق تو ھے زرا سا

وہ چاند آج ایا ھے پھر سے آسمان پر
یادوں کی چاندنی میں تنھا کھلا کھلا سا

اب رحم کون چاھے انصاف کون مانگے
ھر شخص بن رھا ھے اپنی جگہ خدا سا

یہ آرزو ھے کھ تم ھو اور چودھویں کی شب ھو
وہ چاند بھی تو دیکھے یہ چاند دل ربا سا

راہ وفا یہ تم بھی اب ساتھ چل کے دیکھو
ھر شھر شھر سنگ اور ھر کس گریز پا سا

اسکی بھاؤں میں اب بھنا نھیں گیارا
وہ سب میں رہ رھا ھے سب سے جدا جدا سا

جس کی خوشی کی خاطر دامن چھڑا لیا ھے
وہ ھی نا جانے کیوں ھے ھم سے خفا خفا سا

تم سچ ھی کھ رھے ھو یہ بات مانتے ھیں
پر کیا کریں کہ ھم کو یہ سچ لگا برا سا

اتنے فریب کھاے پھر بھی سبق نا سیکھا
بے شک کوئی جھاں میں سدا نھیں ھم سا

Rate it:
Views: 570
04 Jan, 2011
More Love / Romantic Poetry
" کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں " کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔
MAZHAR IQBAL GONDAL