آنکھیں بجھی بجھی سی لہجہ تھکا تھکا سا
Poet: M.Z By: M.Z, karachiآنکھیں بجھی بجھی سی لہجہ تھکا تھکا سا
پھر ضبط کر رھے ھو کوئی غم نیا نیا سا
مشکل نھیں یہ دنیا پھر بات مان جائیے
کہنے تو دو جو حق ھے یہ حق تو ھے زرا سا
وہ چاند آج ایا ھے پھر سے آسمان پر
یادوں کی چاندنی میں تنھا کھلا کھلا سا
اب رحم کون چاھے انصاف کون مانگے
ھر شخص بن رھا ھے اپنی جگہ خدا سا
یہ آرزو ھے کھ تم ھو اور چودھویں کی شب ھو
وہ چاند بھی تو دیکھے یہ چاند دل ربا سا
راہ وفا یہ تم بھی اب ساتھ چل کے دیکھو
ھر شھر شھر سنگ اور ھر کس گریز پا سا
اسکی بھاؤں میں اب بھنا نھیں گیارا
وہ سب میں رہ رھا ھے سب سے جدا جدا سا
جس کی خوشی کی خاطر دامن چھڑا لیا ھے
وہ ھی نا جانے کیوں ھے ھم سے خفا خفا سا
تم سچ ھی کھ رھے ھو یہ بات مانتے ھیں
پر کیا کریں کہ ھم کو یہ سچ لگا برا سا
اتنے فریب کھاے پھر بھی سبق نا سیکھا
بے شک کوئی جھاں میں سدا نھیں ھم سا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






