یاد
Poet: Anis By: Anis, Karachiکسی کی یاد نے سر شام مجھ کو گھیرا ہے
تعلق اس کا میرے دل سے بہت گہرا ہے
میں اس سے کیسے کہوں کہ اے مہرباں میرے
بنا تیرے یہ زندگی غم کا صحرا ہے
یہ سب اشک اپنی آنکھوں کے مجھے دے دو
ان آنسوؤں پہ سارا حق تو میرا ہے
تیری اداسی کو بنا لوں میں ردا اپنی
تیری خاموشی کس طرح کا استخارہ ہے
تیرے چہرے کی یہ مسکان سدا قائم رہے
یہ ہی مسکان تو بہار کا اشارہ ہے
انس کہہ دو اس سے کہ میرے ہمدم
میں بھی تیری یہ جان و دل بھی تیرا ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi







