پھیلا ہوا جو چار سو خوشبو کا رنگ ہے
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملایشیاپھیلا ہوا جو چار سو خوشبو کا رنگ ہے
تتلی ترے جمال کی پھولوں کے سنگ ہے
یہ کس نے آ کے بامِ سماعت سے دی صدا
دل کی زمیں پہ دیکھو محبت کی جنگ ہے
چمکا تمہاری یاد میں ہے دل کا آئینہ
پھر بھی زمین پیار کی ہر سو بے رنگ ہے
وہ اپنے آسمان پہ اڑتا ہے شان سے
میری یہ جس کے ہاتھ میں دل کی پتنگ ہے
سوئے ہوئے ہیں تان کے چادر غموں کی ہم
اس بے سکوں حیات پہ صدیوں کا رنگ ہے
یہ کس کی آرزوؤں میں مسکان کھو گئی
کیوں میرے دل کا راستہ مجھ پہ ہی تنگ ہے
بہتر ہے میری راہ میں دنیا نہ اب جلے
وشمہ کا پیار آج بھی وشمہ کے سنگ ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






