بھٹک کر گمنام راستے پیروں میں ٹھہر جاتے ہیں
Poet: Santosh Gomani By: Santosh Gomani, Mithiبھٹک کر گمنام راستے پیروں میں ٹھہر جاتے ہیں
قابل لحاظ کچھ لوگ اندھیروں میں ٹھہر جاتے ہیں
یہ زمانہ کچھ حالتوں سے بھی مطابقت رکھتا ہے
کہ گھر ہوتے ہوئے مزاج بازاروں میں ٹھہر جاتے ہیں
میری کسی قلت کو اب بھی عبادت کی ضرورت ہے
کبھی کبھی ہم کئی آزاروں میں ٹھہر جاتے ہیں
سنیں تو ہر گلے سے اپناپن گرجتا ہے پھر بھی
مفلسی میں بے زر! وہیں مکاروں میں ٹھہر جاتے ہیں
میں میری خودنمائی سے اتنا واقف تو نہیں مگر
خاک پہ رہتے خیال اکثر ستاروں میں ٹھہر جاتے ہیں
بے وفائی کے کمال کو سب نے شوخ سمجھا سنتوشؔ
قابل یقین کہیں ہم اعتباروں میں ٹھہر جاتے ہیں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






