کئی دنوں سے پلکیں تھی منتظر تمہاری
Poet: Santosh Gomani By: Santosh Gomani, Mithiکئی دنوں سے پلکیں تھی منتظر تمہاری
ابکہ آنکھیں بن گئی ہیں سمندر ہماری
سکون کے سرانے ہیں حوصلوں کے پیچھے
دکھ کی راتیں تو ہیں پل بھر ہیں ہماری
کس کروٹ سے آہ بھرکے پوچھیں کہ
کہاں اڑ گئی ہے آج نندر ہماری
احراموں سے عبادتگاہوں تک دیکھو
یہ سوچیں بھی مسجد مندر ہماری
سبھی راستے صراط مستقیم تو ہیں مگر
منزلیں تو ہمیشہ رہی ہیں منتظر ہماری
ویسے تو تمہاری خیال میں ڈوبی رہی
لیکن کتنی تھی وہ سوچیں سُندر ہماری
کیوں ڈھونڈنے چلے ہو زمانے میں انہیں
خوشیاں تو پڑی ہیں سب اندر ہماری
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






