بہاؤ تیز تھا دریا الٹ گیا ہوگا
Poet: اےبی شہزاد By: اےبی شہزاد, Mailsiبہاؤ تیز تھا دریا الٹ گیا ہوگا
زمیں سے پانی مخالف سمت گیا ہوگا
بسر وہ کیسے کرے گا فراق ہجر کے دن
ابھی تو وقت مسافت میں کٹ گیا ہوگا
وہ راستہ تو خطرناک ہے وہاں لٹیرے ہیں
ابھی تلک جو نہیں آیا لٹ گیا ہوگا
نہ انتظار کرو گھر چلے ہی جاؤ تم
نہیں وہ آئے گا اب پیار گھٹ گیا ہوگا
نہیں وہ ہارنے والا ہوا ضرور ہے کچھ
وہ اپنی مرضی سے پیچھے ہی ہٹ گیا ہوگا
نہیں ہوں خوف زدہ موت آنی ہے اک دن
وہاں جو بم پڑا تھا کب کا پھٹ گیا ہوگا
نہیں ہے کوئی تعلق میں جانتا ہوں اسے
وہ اس کے ساتھ تو ایسے چمٹ گیا ہوگا
کرے گا سامنا قانون خود بنائے گا
اصول اپنے پہ شہزاد ڈٹ گیا ہوگا
More Love / Romantic Poetry






