بہت اداس ہے یہ دل اوپر سے رات کا پہرا
Poet: سعدیہٓ اعجاز By: Sadia Ijaz Hussain, Lahore,University of Educationبہت اداس ہے یہ دل، اوپر سے رات کا پہرا
تنہائ ہی تنہائ ہے ، گردشِ ویراں میں سناٹا
خامشی چینختی پھرتی اور یہ دل بیچارا
اے دیواروں تم ہی سن لو ،دل کی دشت بیانیاں
افلاک سے کریں باتیں؟؟ پر تارے بھی نہیں نکلے
کہاں ہے ماہتاب شہزادہ ، جاؤ اندھیرا کھوج لاو تم
وہ دل کا سکوں جاناں ، وہ چاند کی تجلیاں
وہ خامشی کی حسرتیں ، وہ آدابِ سخن جاناں
اِدھر بادلوں نے آگھیرا ، چاند بھی نہیں نکلا
اب اک شاعرہ کی شاعری بھی، کیسے انجام کو پہنچے ؟
جب چاند ہی نہیں نکلا ، آسماں پر نظر ہو ،آنکھیں آسماں کو نہ دیکھیں؟
تو کیسے نہ رنجیدہ ہو جاناں ؟ کہ چاند بھی بزم میں نہیں نکلا
دل کی آواز ہے جاناں ، دل اداس ہے جاناں۔۔
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi







