پڑنظز میری جب سے تیرے رخسار پے
Poet: Sarfraz Ahmed Saifi By: Sarfraz Ahmed, Mandi Bahauddinپڑنظز میری جب سے تیرے رخسار پے
تب سے دوسرا کوئی مجھ کو نظز آتا ہی نہیں
کرتا ہوں کوشش جب بھی کچھ یاد کرنے کی
تیرے علاوہ اب خیالوں میں کوئی بستا ہی نہیں
گزارتا ہوں اک اک لمحا تیری بےپناہ یاد میں
بن یادوں کے تیری کمبخت یہ دن بھی گزرتا ہی نہیں
حاصل تمہیں کرنے میں ہیں مشکلیں بے شمار
مگر بنا کانٹوں کے توپھول بھی ملتا ہی نہیں
تو چاہتا ہے اسے خود سے بھی بڑھ کے احمد
پھر بھی تم کو نہ ملے تو قسمت بھی تیرے ساتھ ہی نہیں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






