بہکی بہکی شام کے قصے ، مہکی مہکی رات کا نام
Poet: Anwar Kazimi By: Anwar Kazimi, Mississauga, Canadaبہکی بہکی شام کے قصےّ ، مہکی مہکی رات کا نام
جیون اِن پاگل سوچوں میں کھوئے ہوئے لمحات کا نام
عشق، جنوں ، آ شفتہ سری ، یا جنم جنم کا پاگل پن
جو بھی جی میں آ ئے رکھ لو ، میرے احساساَت کا نام
اُسکے دل میں پلَ دو پلَ کو ایک لہرَ تو اُٹھے گی
جب بھی اُسکو یاد آ ئے گا ، بھو لی ہوئی سوغات کا نام
حسنُ اور عشق تو پیارے پیارے قدرت کےفن پارے ہیں
ایک حسیںَ احساس کا پیکر ، اِک نازک جذبات کا نام
کتنی عجبَ سی بات ہے یارو ہم تو یہ بھی بھول گئے
جانے ہم نے کیا رکھا تھا یادوں کی بارات کا نام
شروع سے لیکر آ خر دَم تک ہم نے جب جب شعر کہے
سپنوں کے پنےّ پر لکھا منہدی والے ہاتھ کا نام
گر آ نکھوں کی بوند میں شامل خون نہ ہو ارمانوں کا
ہم ایسی بوندوں کو دیں گے کو کھ جلی برسات کا نام
اُسنے کتنی غور سے انور تجھکو مڑُ کر دیکھا ہے
جب بھی تیرے لب پر آ یا بدلے ہوئے حالات کا نام
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔






