بے انت خیالات مجھے مار ہی دیں گے
Poet: Yaseen Shahi By: Yaseen Shahi, Islamabadبے انت خیالات مجھے مار ہی دیں گے
یہ ہجر کے لمحات مجھے مار ہی دیں گے
حالات سے لڑتا ہوا مر جاؤں گا اک دن
تم دیکھنا حالات مجھے مار ہی دیں گے
احساس کی مسند پہ بیٹھا رکھتے ہیں دن بھر
پر دکھ تو کسی رات مجھے مار ہی دیں گے
ساون سے مماثل ہیں مری آنکھیں ترے بعد
یہ اشک یہ برسات مجھے مار ہی دیں گے
آنکھوں میں ابھر آتے ہیں ہر بات پہ آنسو
شاہی مرے جذبات مجھے مار ہی دیں گے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






